نئی دہلی، 22؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی)نے دموہ ضلع میں صحت کی ہیلتھ سروس مراکزکی بدحال صورتحال سے متعلق خبروں کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیاہے۔دموہ میں ہیلتھ سروس مراکزکی بدحال صورتحال کی خبرپرازخود نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ جب ضلع کا کلکٹر خود کوبے بس پاتا ہے تو پھر عام لوگوں کی پریشانی کا تصورآسانی سے کیا جا سکتا ہے۔کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ این ایچ آرسی نے صحت عامہ اورخاندانی بہبودمحکمہ کے پرنسپل سکریٹری کونوٹس جاری کر کے ان سے چارہفتوں کے اندررپورٹ طلب کی ہے۔کمیشن نے کہاکہ ہر کسی کو علاج کی خدمات دستیاب کراناریاست کابنیادی فرض ہے۔اس معاملے پر ریاستی حکومت کی جانب سے خصوصی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔گذشتہ 19؍جولائی کو آئی خبروں کے مطابق، ہیلتھ سروس سینٹر اتنی بری حالت میں ہیں کہ ضلع میں سینئر ڈاکٹروں کے68منظور شدہ عہدوں میں سے صرف 16عہدے ہی بھرے ہوئے ہیں۔اس میں آئی سی یو کی سہولت نہیں ہے اور یہ مریضوں کو جبل پور میڈیکل کالج یا ساگر کے لیے ریفر کر دیتے ہیں،یہ اسپتال یہاں سے بالترتیب100کلومیٹراور75کلومیٹر دور ہیں۔مریضوں کو اکثر کہا جاتا ہے کہ ایمبولینسوں کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے اور اتنی لمبی دوری انہیں خود ہی طے کرنی ہوگی۔بیان میں کہا گیا کہ خود ضلع کلکٹر نے اپنے کو بے بس پایاہے ۔ان کی بیمار ماں کوجبل پور لے جانے میں اتنا قیمتی وقت برباد ہو گیا کہ 11؍جون کو ان کی ماں چل بسی۔ان کے حوالے سے کہاگیاہے۔نظام میں خرابی ہے اور اس کے لیے جتنا دوسرے لوگ ذمہ دار ہیں، اتنا ہی میں بھی ہوں۔